صحیح الاصول

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بااصول، اصول پرست، حقیقت پسند۔ "نازیبا طریقوں کے استعمال سے بھی اجتناب نہیں کیا گیا جن کوئی صحیح الاصول و صحیح المسلک پبلک کام کرنے والا روا نہیں رکھے گا۔"      ( ١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ٥٩ )

اشتقاق

اصلاً عربی ترکیب ہے۔ عربی زبان سے مشتق اسم صفت 'صحیح' کے ساتھ عربی حرف 'ا ل' بطور حریف تخصیص لگا کر عربی اسم 'اصول' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٢٦ء کو "مسئلہ حجاز" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بااصول، اصول پرست، حقیقت پسند۔ "نازیبا طریقوں کے استعمال سے بھی اجتناب نہیں کیا گیا جن کوئی صحیح الاصول و صحیح المسلک پبلک کام کرنے والا روا نہیں رکھے گا۔"      ( ١٩٢٦ء، مسئلہ حجاز، ٥٩ )